میرا ٹیپو سلطان

کسی سیانے نے کہا تھا کہ اگر تم امن چاہتے ہوں تو جنگ کے لئے تیار رہو۔ سنا تو یہ تھا کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جذبوں سے لڑی جاتی ہیں۔ مگر کپتان سے پتہ چلا کہ جنگ کردار سے بھی لڑی جا سکتی ہے اور جیتی بھی جا سکتی ہے۔ کپتان تو شروع دن سے ہی خوش قسمت تھا، جس چیز کو چاہا اسے حاصل کیا۔ بلند حوصلہ، پختہ ارادے کا مالک، نا امیدی اسے چھو کر بھی نہیں گزری، کپتان نے محنت، کوشش اور لگن سے نا ممکن کو ممکن بنا کر دیکھایا۔

1992 کا ورلڈ ہو یا شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر، نمل یو نیورسٹی ہو یا وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہونا۔ یہ سب کپتان کی خوش قسمتی کی ہی داستانیں ہیں۔ بے شک یہ تمام کامیابیاں خدا کے خاص فضل و کرم کا ہی نتیجہ ہیں۔ کپتان کی یہی خوش قسمتی اب اس ملک کی کوشش قسمتی بھی بنتی جا رہئی ہے۔ عمران خان ایک ایسے وقت میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے جب ملک کی معشیت قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ملک کا ہرادارہ زبوں حالی کا شکار ہے۔

کرپشن معاشرے کا ناسوربن چکی ہے۔ غربت جہالت اور بے روزگاری اپنی انتہا پر ہے۔ قوم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو بار بار آزمانے کے بعد اب عمران خان کو آزما رہی ہے۔ 2013 کے عام انتخابات میں عمران خان نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ ابھرے مگر بڑی کا میابی حاصل نہ کرے سکے۔ 2018 کے انتخابات میں عمران خان دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے کے ساتھ میدان میں اترے اور سب کو مات کر دیا۔ عمران خان اپنی انتخابی تقریروں میں کہتے تھے۔

کہ یہ قوم کبھی بھیک نہیں مانگے گی۔ دنیا بھر سے لوگ پاکستان میں نوکریاں حاصل کرنے آئے گے۔ یہ قوم دنیا کی عظیم قوم بنے گی۔ پاکستان کو ریاست مدینہ بنائے گے، جس میں امیر اور غریب کے لئے قانون برابر ہوگا۔ دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گی۔ مگر کپتان کی حکومت نے آتے ہی بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن نے لوگوں سے روز گار چھین لیا۔ نیب کی کارروائیوں نے سرمایہ کاروں کو خوف میں مبتلا کر دیا۔

ڈالر کی اونچی اڑان اور بجٹ خسارے نے کپتان کو کشکول اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے گزشتہ چھ ماہ میں کئی مرتبہ یہ محسوس ہوا۔ کہ کپتان بطور وزیر اعظم ناکام ہو گئے۔ وزارا کے غیر ذمہ درانہ بیانات نے حکومت کے لئے کافی مشکلات پیدا کیں۔ اپوزیشن کو یقین تھا کہ کپتان بڑی تیزی سے ناکامی کی طرف گامزن ہے۔ لہذا ابھی عوام کو تبدیلی سرکار کا مزید مزہ چکھنے دیا جائے۔ لیکن کپتان قوم سے بار بار یہ کہتا رہا کہ تھوڑا سا مشکل وقت ہے برداشت کرے، آگے اچھے دن آ گئے۔

اور پھر ناقدین نے دیکھا کہ اچانک دوست ممالک کی جانب سے بیل آؤٹ پیکجز کا سلسلہ شروع ہوا۔ کپتان نے ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے عرب شہزادوں کی گاڑیاں بھی ڈرائیو کیں۔ قسمت کا کھیل بھی عجیب ہے۔ جس جنگ نے پاکستان کی معشیت کو تباہ کیا، وہ اب کپتان کے تعاون سے 17 سال کے بعد اختتام پذیر ہونے کے قریب ہے۔ پاکستان کی مدد سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ پاکستان جنگ سے نکل کراستحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان کی معشیت کے لئے گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔ گوادر میں آئل ریفائنری کا قیام اور مختلف شعبہ جات میں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری روشن مستقبل کی نوید سنا رہی ہے۔ سی پیک منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ اب ایسی صورتحال میں کہ جب دنیا پاکستان سرمایہ کاری کرنے کے لئے آرہی ہے۔ اچانک مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوج پر حملے کے نتیجے میں 40 کے قریب بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔

حملے کا براہ راست الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگا دیا گیا۔ بھارتی میڈیا جنگی جنون میں مبتلا ہو کر جنگ اور بدلے کی صدائیں بلند کر رہا تھا۔ انتخابی ماحول سے نکل کر بھارت جنگی ماحول میں داخل ہو چکا تھا۔ سیاسی پنڈتوں کے نزدیک حملے کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی اور نریندر مودی کو ہوا۔ مودی نے پلوامہ حملے پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنالیا۔ پلوامہ حملے سے پہلے مودی کو چند ریاستوں میں شکست کا سامنا کر نا پڑھا۔

بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک بھارت میں بڑی تعدادپاکستان مخالف جذبات رکھتی ہے۔ جنہیں مودی سرکار پاکستان دشمنی کا کرڈ استعمال کرتے ہوئے آسانی سے رام کر سکتے ہے۔ کپتان پہلے دن سے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا رہا۔ مگر بھارت کی جانب سے منفی پیغام ہی موصول ہوا۔ پلوامہ حملے کے بعد بھی کپتان نے بھارت سے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور بھارت کو جنگ سے باز رہنے کا مشورہ بھی دیا۔ کپتان کی امن کی خواہیش کو مودی نے کمزوری سمجھ لیا۔

دشمن نے پاکستان کی سرزمین پر رات کی تاریکی میں حملہ کیا اور بھاگ گیا۔ طاقت کے نشے میں چور بھارت کو پوری دنیا کے سامنے اس وقت ذلت کا سامنا کر نا پڑھا جب پاک فضائیہ نے دن کی روشنی میں دو طیارے مار گرائے اور ایک بھارتی پائلٹ کو بھی زندہ گرفتار کر لیا۔ مودی سرکار اور بھارتی میڈیا پاکستان کو جنگ کے لئے اشتعال دلا تا رہا کہ کسی طریقے سے جنگ شروع ہو سکے۔ اب کپتان کے سامنے دو راستے تھے۔ پاکستان جنگ کرے اور پورا خطہ تباہی کا شکار ہو جائے۔

دوسرا راستہ یہ تھا کہ بھارتی اشتعال میں آئے بغیر امن کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اور پاکستان کو معاشی ترقی کے لئے جتنے بھی مواقع مل رہئے ہیں ان سے استفادہ کرے اور لوگوں کو غربت سے نکالے۔ کپتان نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر تاریخی تقریر کی۔ جس میں چین اور امریکہ کا تقابلی جائز ہ پیش کیا گیا۔ جب امریکہ افغان جنگ میں اربوں ڈالر جھونک رہا تھا تو چین اس وقت اپنے تمام ترتنازعات بھول کر معاشی ترقی کے ذریعے تیس کروڑ انسانوں کو غربت سے نکال رہا تھا۔

کپتان نے جہاں جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کو چھوڑنے کا اعلان کیا، تو وہی یہ بھی بتا دیا کہ اس ملک کا ہیروں ٹیپو سلطان ہے۔ اس وقت پوری دنیا کپتان کے نظریہ کی تعریف کر رہی ہے۔ بعض لوگ کپتان کو امن کا نوبل انعام دلوانا چاہتے ہیں۔ مگر کپتان کے نزدیک جو شخص مسئلہ کشمیر حل کرے گا۔ وہی نوبل امن انعام کا حقدار ہو گا۔ پاکستان دشمنی کو ہوا دینے سے مودی کو کس حد تک انتخابی میدان مین کامیابی ملے گی۔

اس بات کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔ مگر میرے نزدیک پلوامہ حملہ کا مقصد صرف انتخابات جیتنا نہیں تھا، بلکے پاکستان کی معاشی ترقی کے پہیہ کو روکنا ہے۔ جنگ کا موحول بناکر عالمی دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے روکنا ہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کیا پاکستان کا ٹیپو سلطان مودی کو غربت، جہالت، اور بے روزگاری کے خاتمے کی جنگ ہرا سکے گا۔ لگتا یہی ہے کہ ہتھیار اٹھائے بغیر پہلا مرحلہ تو کپتان جیت چکا ہے۔ کپتان کی ترجحات بتا رہی ہیں کہ دوسرا مرحلہ بھی کپتان ہی جیتے گا، کیونکہ جو جیتا وہی سلطان ہوگا۔

No Comments Yet

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!