نیوزی لینڈ میں کیا ہوا؟

اہل علم و دانش سے سناتو یہ تھا، کہ انسانیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ مگر جب انسانیت، حیوانیت میں بدلنے لگے۔ جب مقام اور مرتبے کا فیصلہ کردار کی بجائے رنگ اور نسل پر ہونے لگے۔ جب نفرت، محبت سے زیادہ بکنے لگے۔ جب انتہاپسندی، اعتدال پسندی پر حاوی ہونے لگے۔ جب جنگ کو امن پر ترجیح ملنے لگے۔ جب معاشرے میں اسلحہ مہنگا اور انسانی جان سستی ہونے لگے۔ جب ظلم کو انصاف پر ترجیح ملنے لگے۔ جب باطل کوسچ پر بالا دستی ملنے لگے۔ جب خوف کو تحفظ پر فوقیت ملنے لگے۔ تو پھروہی کچھ ہوتا ہے جو سانحہ کرائسٹ چرچ میں ہوا۔

جب سے نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر دہشتگرد حملے کی خبر ٹی وی پر دیکھی ہے۔ تب سے آنسو ہیں، کہ نہ رکتے ہیں، اور نہ چھپتے ہیں۔ الفاظ دل کی کفیت بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بولنے کی کوشش کرتاہوں مگرآواز بھر آتی ہے۔ سوچتا ہوں کہ 50 بے گناہ مسلمانوں کو کس جرم کی سزا دی گئی ہے۔ کیوں نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئی۔ کیوں مسجد کو مقتل میں تبدیل کیا گیا۔ دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ تو پھر یہ سانحہ کیوں رونما ہوا۔

آخر انسانی تاریخ کے اس المناک سانحہ کے پیچھے محرکات کیا ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 سالہ دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ آسٹریلوی نژاد شہری ہے۔ دہشت گرد اسلام مخالف نظریات رکھتا ہے۔ وہ امریکی صدر ٹرمپ کا حمایتی اور مسلمانوں پر سفید فام بالا دستی چاہتا ہے۔ 2016 اور 2017 میں دہشتگردی کی طرف راغب ہوا۔ والد کی موت کے بعد 2011 سے وہ دنیا کی سیاحت پر بھی گیا۔ دہشت گرد نے ایک جم میں ٹرینر کے طور پر کام بھی کیا۔

زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں۔ کہ دہشتگردی کا یہ واقع اس وقت پیش آیا جب مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع دو مساجد، النور مسجد اور لین ووڈ میں موجود تھے۔ دہشت گرد مسجد میں داخل ہوا اور کافی دیرتک نمازیوں پر اندھا دھند گولیاں برساتا رہا۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دہشت گرد فیس بک لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے لوگوں کو قتل و غارت گری کی وڈیو بھی دکھاتا رہا۔

دہشت گردی کے اس واقعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سفید فام نسل پرست لوگ چند افراد کے گروہ کا واقعہ قرار دینے کی کوشش کر رہئے ہیں۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ دہشتگردی کا یہ واقع انفرادی سوچ کی عکاسی نہیں کرتا۔ بلکے یہ واقعہ ایک انتہا پسند نظریاتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ جو اسلام و فوبیا اور نسل پرستی کا شکار ہے۔ اس بات کا اندازہ اس چیز سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ کہ دہشت گرد نے جو بندوق استعمال کی، اس پر ان افراد کے نام درج تھے۔ جنہوں نے ماضی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ گاڑی سے اسلحہ نکالتے وقت ایک گیت چل رہا تھا جو 1992 سے 1995 کے درمیان سرب قوم پرست بوسنیا جنگ میں ترانے کے طور پر بجاتے تھے۔ جس میں جنگی جرائم میں سزا یافتہ رادون کردوچ کی شان بیان کی گئی ہے۔ دہشت گردی کے اس واقعے پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن کا رویہ اور کردار قابل تحسین تھا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر مسلم کمیونٹی کو گلے لگایا۔ سیاہ لباس میں ملبوس نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم مسلم خواتین کے ساتھ اسی طریقے سے تعزیت کر رہی تھی۔ جیسے عمومی طور پر ہمارے معاشرے میں تعزیت کی جا تی ہے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور تعزیت اپنی جگہ مگر نیوزی لینڈ کی حکومت نے اپنی اصل ذمہ داری پوری نہیں کی۔ دہشت گرد نے مساجد پر حملے سے 24 گھنٹے پہلے 74 صفحات پر مبنی منشور آن لائن پیش کیا۔ جس میں حملے کی تفصیلات بیان کی گئی۔ دہشت گرد نے اپنے منشور میں لکھا تھا میں ایک عام سفید فام شخص ہوں۔ جس نے اپنے لوگوں کے مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ دہشت گرد نے لکھا کہ وہ ایک حملہ کرے گا تاکہ یورپی سرزمین پرغیر ملکیوں کے باعث ہونے والی لاکھوں اموات کا انتقام لے سکے، اس منشور میں یہ بھی لکھا تھا کہ جب تک ایک بھی سفید فام زندہ ہے، یہ لوگ ہماری زمین فتح نہیں کر سکیں گے اور ہمارے لوگوں کی جگہ نہیں لے سکیں گے۔ اس دہشت گردی کے اس واضح پیغام کے بعد بھی نیوزی لینڈ کی حکومت نے حملے کو روکنے یا ناکام بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ البتہ دہشت گرد کا منشور اس بات کی بھی نشاندہی کر رہا ہے کہ روشن مستقبل کا خواب لے کر مغربی ممالک میں جانے والے پاکستانیوں سمیت ایشیائی ممالک کے افراد سے سفید فام نسل خوف زدہ ہے۔

سفید فام لوگوں کو لگتا ہے، کہ مہاجرین ان کی نوکریوں اور ان کے شہروں پر بڑی تیزی سے قبضہ کر رہئے ہیں۔ اس حملے کے بعد مغربی معاشرے کو وہ سب سولات پوچھنے چاہیے۔ جو کسی مغربی ملک میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد مسلمان ممالک سے پو چھے جاتے ہیں۔ یعنی دہشت گردوں کی پناہ گاہیں کہاں پر ہیں۔ کون سفید فام نسل کی برین واشنگ کر رہا ہے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کون کر رہا ہے۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے اب تک مغربی ممالک نے کیا اقدامات کئے؟

مسلم معاشرے میں اس بات پر تو مکمل اتفاق پایاجا تا ہے۔ کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ سانحہ کرائسٹ چرچ صرف مسلمانوں پر حملہ نہیں تھا بلکے دنیا کے پرامن اور خوش حال ملک پر حملہ تھا۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم تو اسلحہ پالیسی تبدیل کرنے کا اعلان کر رہی ہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ مغربی ممالک میں موجود گن انڈسٹری شاید انھیں ایسا نہ کرنے دے جیسے اب تک امریکہ گن ٹیررازم پر قابو نہیں پا سکا۔

پوری دنیا کا ایک بہت بڑا طبقہ غم کی اس گھڑی میں مسلم کمیونٹی کے ساتھ افسوس کا اظہار کررہا ہے۔ جوکہ خوش آئند اقدام ہے۔ ہمیں بھی رنگ نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکرسب قوموں اور مذاہب سے اپنے تعلقات بہتر بنانے چاہیے۔ اور اسلام کا حقیقی پیغام ان تک پہنچانا چاہیے۔ یہ بات بھی قابل ستائیش ہے کہ آج آسٹریلیاں کے نسل پرست اور مسلمان مخالف سینٹر فریسر ایننگ کو نفرت پھیلانے پر ایک سفید فام نوجوان نے احتجاجا انڈا دے مارا۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ ابھی زندہ ہے۔ دہشت گردی کے اس واقع میں 9 پاکستانی بھی شہید ہوئے ہیں۔ حکومت پاکستان نے 18 مارچ کو یوم سوگ مناتے ہوئے قومی پرچم سرنگوں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شجاعت اور بہادری کی نئی مثال قائم کرنے والے شہید نعیم رشید کے لئے قومی ایوارڈ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ کاش کہ ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنا سکیں کہ کسی بھی پاکستانی کو نوکری یا اچھے مستقبل کی خاطرنیوزی لینڈ یا کسی بھی مغربی ملک میں جانا نہ پڑے۔

دہشت گردی کا یہ واقعہ داعش، القاعدہ اور دنیا بھرکی کالعدم تنظمیوں کو ایک چنگاری بھی فراہم کر سکتا ہے۔ لہذا ہمیں نفرت کی آگ کو پھیلنے سے روکنا ہے۔ کیونکہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں ارشاد فرمایا تھا۔ جس کا مفہوم کچھ یوں ہے۔ کہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔

اور اصل معیار تقوی ہے۔ لہذا تقوی اختیار کروں۔ سانحہ پر افسوس اپنی جگہ مگر مسجد میں جمعہ کی نماز کے وقت مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ جب وہ رب العالمین کا شکر ادا کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ بہت خوش نصیب ہیں۔ جنہیں شہادت کے وقت ایسا پاکیزہ مقام ملا۔ ایک سفید فام آسٹریلوی شہری نے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے نمازمغرب کی آذان کی ویڈیو شیئر کی ہے۔ 50 مسلمان شہید ہو گئے۔ مگر آج بھی یورپ میں میرے رب کا نام لیا جا رہا ہے، رب العالمین کو پکارا جا رہا ہے۔ آذان دی جا رہی ہے، اور قیامت تک دی جاتی رہے گی۔ کیونکہ مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ

No Comments Yet

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!